میکے سے محبت اور اپنا گھر


 

تحریر : جویریہ سعید

اس پر اکثر بات کی جاتی ہے کہ مرد حضرات کی سخت مزاجی اور پابندیوں کی وجہ سے ناصرف عورت بلکہ بچوں  پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر کیا آپ نے گھریلو معاملات کی پیچیدگیوں کے کچھ اور پہلوؤں پر بھی غور کیا ہے۔ 

خواتین سے کہاں غلطی ہوتی ہے؟

سسرالیوں کا رویہ تو خیر اتنا ڈسکس ہوتا ہے کہ یہ ایک ولن کا روپ دھار چکا ہے مگر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کبھی کبھی میکہ بھی گھر کھا جاتا ہے؟

کچھ عورتیں اپنے میکے کے بارے میں اس قدر حساس ہوتی ہیں اور اپنے ماں جایوں سے اس قدر قریب ہوتی ہیں کہ اپنے بچوں تک کو نظر انداز کرتی ہیں۔ 

شوہر سے لڑائی یا سسرال کی ضد میں وہ اپنے میکے کی ان "ضرورتوں" کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتی رہتی ہیں جو شاید ان کی زمہ داری بھی نہیں ہوتیں۔

بہن بھائی، بھانجے بھتیجی کو خوش کرنے کی خاطر اپنے بچوں کی جذباتی ضروریات کی طرف سے لاپرواہ ہو جاتی ہیں۔ 

اس کے کئی عوامل ممکن ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر معاشی یا سماجی حالات میں رہ رہی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ اپنے گھر والوں کو سہارا دینا ان کی زمہ داری ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے شوہر یا سسرال کے برے رویے کے رد عمل میں وہ بھی اپنا ممکن ہتھیار لے کر میدان میں آگئی ہوں۔

مگر یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ محبت صرف مردوں کے ساتھ ہی نہیں عورتوں کے ساتھ بھی عجیب معاملہ کرتی ہے۔ 

اگرچہ مرد اپنے رشتے داروں کی خاطر اپنی اولاد اور زوجہ کو نظر انداز کرنے کے معاملے میں زیادہ بدنام ہیں مگر خواتین بھی اپنی حکومت اور اختیار کی حدود میں موقع ملتے ہی اپنا پورا حصہ ڈال دیتی ہیں اور نہ ڈال پائیں تو ایسا نہ کرنے کی حسرت انہیں کڑوا رکھتی ہے۔

ماؤں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی بیٹی ان سے کیوں دور ہوگئی؟ ان کے بیٹے گھر والوں سے کیوں بدظن رہتے ہیں؟ 

ہر وقت کی لڑائی، ہر وقت ان کے باپ کو برا بھلا کہنا، ہر وقت سسرال کی زیادتیوں کی داستان سنانا اور ساتھ ہی اپنے میکے کی غلطیوں کو چھپاتے رہنا اور ان کی نشاندھی پر برافروختہ ہوجانا۔ گھر میں بچوں کو آپ کی ضرورت ہے کہ آپ ان کے ساتھ بیٹھیں، باتیں کریں، کچھ سکھائیں، اپنی بیٹیوں سے زندگی گزارنے کے طریقوں پر بات کریں، بیٹوں کو کمزوروں کا احترام سکھائیں۔ مگر آپ یہ وقت اپنے میکے والوں سے لمبی لمبی باتیں کرنے، ان کے حقوق پورے کرنے، ان کے کاموں کے لیے ہلکان ہونے میں صرف کرتی رہیں۔ شوہر سخت مزاج ہو تو اس کی عدم موجودگی  میں بچوں کے وقت کو استعمال کریں۔ اپنے میکے کی لڑائیوں اور معاملات پر اپنے گھر میں ڈسکشن کرتی رہیں۔ اپنے سسرالیوں کے رویوں پر نالاں ہوں مگر اپنی بھابیوں سے ناراضگی کا اظہار کرتی رہیں۔ 

اگر شوہر اپنے گھر والوں کی طرف غیر ضروری زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے اور اس کے رد عمل میں خاتون بھی یہی سب کرنے لگی ہیں، اور گھر میں بچوں کے سامنے ہر وقت میرے اور تمہارے گھر والے کی رسہ کشی رہے گی تو آپ سوچیں کہ بچے کی شخصیت میں کیا کیا بیج پروان چڑھیں گے؟

یا تو وہ ماں کی طرف ہوکر باپ سے بددل ہو جائیں گے اور اس کے اپنے زہریلے پھل کاٹیں گے۔

یا وہ دونوں سے اور گھر کے ماحول سے بددل ہو جائیں گے، شادی سے نفرت کریں گے،سماج کو کوسیں گے، انسانوں اور رشتوں سے متعلق بری رائے رکھیں گے اور اس کا اظہار کریں گے۔ 

خواتین کی عموما یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا اکثر تذکرہ کرتی رہتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عورت اپنی جذباتی کیفیات کی جزئیات کو زیادہ محسوس کرتی ہے اور اس کا اظہار بھی کرتی ہے۔ جہاں موقع ملے ، خواتین پوری جزئیات کے ساتھ اپنے ساتھ بیتے واقعات کی تفصیل بتاتی ہیں اور ان کی دردناکی کا بیان بھی چلتا ہے۔ اظہار اور تائید کی یہ خواہش غلط نہیں بلکہ شاید یہ سٹریس کو وینٹ آؤٹ کرنے کا اچھا طریقہ ہے کہ کہہ سن کر وہ پھر سے ہلکی پھلکی اور کام کاج کے لیے متحرک اور تازہ دم ہوجاتی ہیں مگر سٹریس ریلیو کرنے کے  اس طریقے پر بہت زیادہ عمل کرنا نہیں چاہیے۔

بہت سے شکوے اللہ کو بھی پسند نہیں کہ شکوہ کرنے کی عادت کی وجہ سے انسان شکر کرنے والی چیزوں کو بھولنے لگتا ہے اور منفی کلام کی کثرت شخصیت کی خوبصورتی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

مگر اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ کوئی خاص ظلم نہ ہونے کے باوجود جب موقع ملے تو شوہر اور سسرال کی برائی کرنا، تکلیفوں کا رونا رونا اولاد کی شخصیت پر برے اثرات ڈالتا ہے۔

وہ باپ کے لیے اپنے دل میں وہ احترام اور محبت محسوس نہیں کرپاتے اور خود بھی ہر وقت شکوہ کرنے والی منفی شخصیت بن سکتے ہیں۔

بہت دردناک کیس وہ تھا جہاں ایک ایسی لڑکی سے ملاقات ہوئی جس کی ماں اس کی طرف سے پریشان رہتی تھی۔ ملاقات پر لڑکی نے اپنے اور زندگی کے بارے میں بہت زہریلی اور طنزیہ گفتگو کی، اور باتوں باتوں میں علم ہوا کہ وہ اپنی ماں ہی کے بہت سے رویوں پر بہت چڑتی ہے۔

 بچوں کو نرا بچہ ہی نہیں سمجھنا چاہیے، ان کو بھی ایک مکمل دماغ عطا کیا گیا ہوتا ہے۔

ماؤں کے اس غیر ضروری جھکاؤ اور تحرک کی وجہ سے بچوں کے نظر انداز ہونے کی ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ بچے اپنے ہی رشتہ داروں کی جذباتی و جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنیں۔

مکمل تو کوئی نہیں اور عین ممکن ہے کہ بہت کوششوں کے باوجود ہم سے بہت غلطیاں ہوں مگر اپنی حد تک اپنا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور خود اپنے رویے میں اصلاح کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

بات یہ ہے کہ وہ خاندانی نظام جس کے زوال کے نوحے ہم گاتے رہتے ہیں،اس کی بربادی میں ہم سب کا حصہ ہے۔


2019-08-01 12:11:57
Read More


Most speedy service ever we seen.

I was looking for a suitable match for my 19 years old daughter. Signed up after reading an advertisement in “Khawateen ka Islam“. Just with in a month we found the desired one and Nikah was held .....Read More


وعدہ

صادق و امین کا وعدہ۔ نکاح سادہ تو برکت ذیادہ.....Read More


سادگی سے نکاح کر تو لیا لیکن۔۔۔

ہماری نوجوان نسل دکھاوے اور جھوٹی انا کی دلدل سے نکلنے کے لیے سو فیصد آمادہ ہے لیکن ہمارے بزرگ راستے کا پتھر ثا.....Read More


سادگی سے نکاح ہوتا کیا ہے؟

سادگی سے نکاح کیا ہے؟ عام طور پر جہیز کے بغیر نکاح کو سادہ نکاح سمجھا جاتا ہے جب بھی سادگی سے نکاح کی بات کی جات.....Read More


آن لائن رشتہ ڈھونڈنا کیسا ہے؟

پاکستان میں رشتہ ڈھونڈنے کے لیے روایتی طور پر مقامی افراد کی خدمات لی جاتی ہیں۔ لڑکے لڑکی کا نکاح کے لیے براہ ر.....Read More


رمضان آفر

سمپل نکاح کا روز اول سے مقصد اپنے ممبرز کو بہترین سہولیات دینا ہے۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم لے کر آئے ہ.....Read More


ساس بہو

راحیلہ ساجد بہو رانی آپ بھی ذرا سيدھی ہو کر بيٹھيں اور دھيان سے ميری بات سنيں۔  جيسے بيٹے کی شادی اور نئی بہ.....Read More